25 اکتوبر 2014 - 21:12
مصر، حالات نازک، جزیرہ سینا میں 7 ہزار فوجی تعینات

مصر کے صدر نے ملک کے عوام، فوج اور حکومت کے درمیان اتحاد پر زور دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عبد الفتاح السيسي نے ہفتے کو حالیہ حملوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد، مصر کی حکومت کا تختہ پلٹنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی صورت حال سے نکلنے کا واحد راستہ، مصری عوام کے درمیان اتحاد ہے۔ مصر کے صدر نے کہا کہ ملک کے عوام کو ان سازشوں سے آگاہ رہنے کی ضرورت ہے جو مختلف مسلح گروہوں کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔ عبد الفتاح السیسی نے کہا کہ مصر کی حکومت اس ملک کو اس کی اصلی حالت میں پہنچانا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لئے غزہ سے ملنے والی سرحد پر ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ جزیرہ سینا میں جمعے کو فوج پر کیے جانے والے حملے کے بعد عبد الفتاه السيسي نے قومی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس طلب کیا تھا۔
دوسری جانب مصر کے ذرائع ابلاغ نے اس ملک کے 7000 فوجیوں کے جزیرہ سینا بھیجے جانے کی اطلاع دی ہے۔
اسکائی نیوز کے مطابق مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی کی جانب سے مسلح گروہوں کے ساتھ جدوجہد کے حکم کے بعد اس ملک کے 7000 فوجیوں کو جزیرہ سینا بھیج دیا گیا ہے۔ مصر کے صدر نے جزیرہ سینا میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ وہاں پر یہ صورتحال 3 ماہ تک جاری رہے گی۔ اس حکم کے مطابق مصر میں سیکورٹی چیلنجوں سے نمٹنے اور امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے فوج اور پولیس فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جمعے کو مصر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد سے اس ملک میں سیکورٹی انتظامات کو مضبوط کرنے کے لئے فوج اور پولیس کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔

.......

/169